(۲۴۲۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : نُہِیَ عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ: زَعَمُوا ذَاکَ ، قُلْتُ : عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : زَعَمُوا ذَاکَ ، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَہُ ؟ قَالَ : زَعَمُوا ذَاکَ ، قَالَ : وَصَرَفَہُ اللَّہُ عَنِّی۔ (مسلم ۵۰۔ احمد ۳۵)
(٢٤٢٨٨) حضرت ثابت سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا۔ گھڑے کی نبیذ سے منع کیا گیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حکم ثابت ہے ؟ انھوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا : آپ نے یہ حکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کو مجھ سے پھیر دیا ہے۔