(۲۴۳۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ ، فَدَعَا بِعُسٍّ مِنْ نَبِیذٍ قَدْ کَادَ یَصِیرُ خَلاًّ ، فَقَالَ : اشْرَبْ ، فَأَخَذْتُہُ فَشَرِبْتُہُ ، فَمَا کِدْتُ أَنْ أَسِیغَہُ ، ثُمَّ أَخَذَہُ فَشَرِبَہُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُتْبَۃُ ، إِنَّا نَشْرَبُ ہَذَا النَّبِیذَ الشَّدِیدَ لِنَقْطَعَ بِہِ لُحُومَ الإِبِلِ فِی بُطُونِنَا أَنْ یُؤْذِیَنَا۔
(٢٤٣٤٧) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عتبہ بن فرقد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں نبیذ تھی۔ جو کہ سرکہ بننے کے قریب تھی۔ پس حضرت عمر نے کہا۔ تم اس کو پیو۔ میں نے وہ پیالہ پکڑا اور اس کو پیا۔ لیکن وہ مجھے حلق سے بآسانی نہیں اتر رہی تھی۔ پھر حضرت عمر نے وہ پیالہ پکڑا اور اس کو نوش فرمایا اور پھر کہا۔ اے عتبہ ! ہم یہ سخت قسم کی نبیذ اس لیئے پیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے پیٹوں میں موجود اونٹوں کے گوشت کو کاٹ دیں (یعنی ہضم کریں) تاکہ وہ ہمیں تکلیف نہ دے۔