(۲۴۳۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بِنَبِیذِ زَبِیبٍ مِنْ نَبِیذِ زَبِیبِ الطَّائِفِ ، قَالَ : فَلَمَّا ذَاقَہُ قَطَّبَ فَقَالَ : إِنَّ لِنَبِیذِ زَبِیبِ الطَّائِفِ لَعُرَامًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَصَبَّہُ عَلَیْہِ فَشَرِبَ ، وَقَالَ : إِذَا اشْتَدَّ عَلَیْکُمْ فَصُبُّوا عَلَیْہِ الْمَائَ وَاشْرَبُوا۔
(٢٤٣٤٨) حضرت ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس مقام طائف کی کشمش کی نبیذ لائی گئی۔ راوی کہتے ہیں : پس جب آپ نے اس کو چکھا تو آپ نے اس میں آمیزش کرنا چاہی اور آپ نے فرمایا : یقیناً طائف کی کشمش کی نبیذ سخت ہوتی ہے، پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا پھر اس کو نوش فرمایا۔ اور کہا : جب تم میں سے کسی کو نبیذ سخت لگے تو تم اس میں پانی ڈال لو اور اس کو پی لو۔