(۲۴۳۵۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النَّبِیذِ الشَّدِیدِ ؟ فَقَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا بِمَکَّۃَ ، فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِہِ ، فَوَجَدَ مِنْہُ رِیحًا شَدِیدَۃً ، فَقَالَ : مَا ہَذَا الَّذِی شَرِبْتَ ؟ فَقَالَ : نَبِیذٌ ، فَقَالَ : جِئْنِی مِنْہُ ، قَالَ : فَدَعَا بِمَائٍ فَصَبَّہُ عَلَیْہِ وَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَیْکُم أَسْقِیَتُکُمْ فَاکْسِرُوہَا بِالْمَائِ ۔
(٢٤٣٥٩) حضرت عبد الملک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے سخت نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : ایک مرتبہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ایک طرح کی سخت بُو محسوس کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” یہ تم نے کیا پیا ہے ؟ “ اس آدمی نے جواب دیا۔ نبیذ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ میرے پاس لاؤ۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور اس میں ڈال دیا اور اس کو نوش فرما لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تمہارے مشکیزے تم پر حد کو تجاوز کر جائیں تو تم ان کو پانی سے توڑ ڈالو۔ “