(۲۴۵۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ ، قَالَ : أرْسَلْنَا إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو نَسْأَلُہُ عَنْ أَیِّ الْکَبَائِرِ أَکْبَرُ ؟ فَقَالَ : الْخَمْرُ ، فَأَعَدْنَا إِلَیْہِ الرَّسُولَ ، فَقَالَ : الْخَمْرُ ، إِنَّہُ مَنْ شَرِبَہَا لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلاَۃٌ سَبْعًا ، فَإِنْ سَکِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلاَۃٌ أَرْبَعِینَ یَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فِیہَا مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً۔
(٢٤٥٦٤) حضرت نعمان بن ابی عیاش سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن عمرو کی طرف ایک قاصد اس غرض سے بھیجا کہ ہم نے آپ سے یہ سوال کیا کہ کبیرہ گناہوں میں سے کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے ؟ انھوں نے جواب ارشاد فرمایا : شراب۔ ہم نے پھر دوبارہ ان کی طرف قاصد بھیجا تو انھوں نے پھر فرمایا : شراب۔ کیونکہ جو شخص شراب نوشی کرتا ہے تو اس کی سات دن تک نماز قبول نہیں کی جاتی اور اگر اس کو شراب سے نشہ بھی ہوجائے تو پھر اس کی چالیس دن تک کی نماز قبول نہیں ہوتی اور اگر اس دوران وہ مرجائے تو جاہلیت کی موت مرے گا۔