(۲۴۶۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی شُعْبَۃُ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بِشَرَابٍ ، وَہُوَ بِالْمَوْقِفِ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ سَیِّدَ أَہْلِ الْیَمَنِ وَہُوَ عَنْ یَمِینِہِ، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ : عَزَمْتُ عَلَیْکَ إِلاَّ أَفْطَرْتَ وَأَمَرْتَ أَصْحَابَکَ فَأَفْطَرُوا۔
(٢٤٦٧٣) حضرت عکرمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک مشروب لایا گیا جبکہ آپ عرفہ کی رات کو موقف میں تھے۔ پس آپ نے وہ مشروب پیا پھر آپ نے وہ مشروب اہل یمن کے سردار کو دے دیا اور یہ آپ کے دائیں جانب تھے۔ اس سردار نے کہا۔ میں روزہ دار ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم خود بھی روزہ توڑو اور اپنے ساتھیوں کو بھی حکم دو کہ وہ روزہ افطار کریں۔