(۲۴۶۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، سَمِعَہُ مِنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ ، وَتُوُفِّیَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِینَ ، وَکُنَّ أُمَّہَاتِی یَحْثُثْنَنِی عَلَی خِدْمَتِہِ ، فَدَخَلَ عَلَیْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَہُ مِنْ شَاۃٍ دَاجِنٍ لَنَا، وَشِیْبَ لَہُ مِنْ بِئْرٍ فِی الدَّارِ، وَأَبُو بَکْرٍ عَنْ شِمَالِہِ ، وَأَعْرَابِیٌّ عَنْ یَمِینِہِ، وَکَانَ عُمَرُ نَاحِیَۃً ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَعْطِ أَبَا بَکْرٍ ، فَأَعْطَی الأَعْرَابِیَّ ، وَقَالَ : الأَیْمَنُ فَالأَیْمَنُ۔
(مسلم ۱۲۵۔ مالک ۱۷)
(٢٤٦٧٤) حضرت زہری سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس کو کہتے سُنا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا۔ اور جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ اور میری مائیں مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنی ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کے پانی کی آمیزش کی۔ حضرت ابوبکر ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں طرف تھے اور ایک دیہاتی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں طرف تھا۔ اور حضرت عمر ، ایک طرف تھے۔ چنانچہ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حضرت ابوبکر کو دے دیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیہاتی کو دے دیا اور ارشاد فرمایا ” دائیں طرف والا، پھر دائیں طرف والا، “ (یعنی یہ حق دار ہے۔ )