(۲۴۷۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الأَرْنَبِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْلاَ أَنِّی أَکْرَہُ أَنْ أَزِیدَ فِی الْحَدِیثِ ، أَوْ أَنْقُصَ مِنْہُ ، وَسَأُرْسِلُ لَکَ إِلَی رَجُلٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَی عَمَّارٍ فَجَائَ ، فَقَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : فَأَہْدَی إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الأَعْرَابِ أَرْنَبًا فَأَکَلْنَاہَا ، فَقَالَ الأَعْرَابِیُّ : إِنِّی رَأَیْتُ دَمًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ بَأْسَ۔
(احمد ۱/۳۱۔ ابو یعلی ۱۶۱۲)
(٢٤٧٦٠) حضرت موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر سے خرگوش کے متعلق سوال کیا ؟ تو حضرت عمر نے جواباً ارشاد فرمایا۔ اگر مجھے یہ بات ناپسند نہ ہوتی کہ مجھ سے حدیث (بیان کرنے) میں کمی یا زیادتی ہوجائے گی۔ (تو میں خود بیان کرتا) لیکن میں تمہارے لیے عنقریب ایک آدمی کی طرف قاصد روانہ کروں گا۔ چنانچہ آپ نے حضرت عمار کی طرف قاصد بھیجا ۔ پس وہ تشریف لائے ۔ تو انھوں نے فرمایا۔ ہم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے۔ پس ہم ایسی ایسی جگہ پر اترے ۔ حضرت عمار نے کہا۔ ایک دیہاتی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک خرگوش ہدیۃً بھیجا۔ پس ہم نے اس کو کھایا۔ دیہاتی نے کہا۔ میں نے خون دیکھا ہے۔ تو اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں ہے۔ “