(۲۴۸۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ الظَّاہِرَۃِ ، قَالَ : قَالَ غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : لَمْ یَبْقَ مِنْ مَالِی إِلاَّ أَحَمِرَۃٌ ؟ قَالَ : أَطْعِمْ أَہْلَک مِنْ سَمِینِ مَالِکَ ، قَالَ : إِنَّمَا کَرِہْتُ لَکُمْ جَوالَّ الْقَرْیَۃِ۔
(٢٤٨٢٦) مزینہ ظاہر ہ کے کچھ لوگ روایت کرتے ہیں کہ حضرت غالب بن ابجر نے بتایا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ میں نے کہا۔ میرے مال میں سے صرف گدھے باقی رہ گئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے گھر والوں کو اپنے مال کا موٹا حصہ کھلاؤ۔ “ اور فرمایا : ” مں ا تو تمہارے لیے صرف گند خور آوارہ کو ناپسند کرتا ہوں۔ “