(۲۴۸۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أُہْدِیَ لَنَا ضَبٌّ فَصَنَعْتُہُ ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَجُلاَنِ مِنْ قَوْمِہَا ، فَأَتْحَفَتْہُمَا بِہِ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُمَا یَأْکُلاَنِ ، فَوَضَعَ یَدَہُ ، ثُمَّ رَفَعَہَا ، فَطَرَحَا مَا فِی أَیْدِیہِمَا ، فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُلاَ ، فَإِنَّکُمَا أَہْلُ نَجْدٍ تَأْکُلُونَہَا ، وَإِنَّا أَہْلُ الْمَدِینَۃِ نَعَافُہَا۔
(ابویعلی ۷۰۴۸)
(٢٤٨٣٢) جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ہدیہ میں ایک گوہ دی گئی۔ میں نے اس کو تیار کیا۔ پھر حضرت میمونہ کے پاس ان کی قوم کے دو افراد آئے تو حضرت میمونہ نے یہ گوہ ان کو تحفۃً پیش کردی۔ اس دوران جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندر تشریف لائے جبکہ یہ دونوں حضرات (اس کو) کھا رہے تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا پھر اس کو اٹھا لیا۔ اس پر ان دونوں کے ہاتھ میں جو لقمہ تھا اس کو انھوں نے نیچے رکھ دیا۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا : ” تم کھاؤ۔ کیونکہ تم دونوں اہل نجد ہو۔ تم اس کو کھاتے ہو۔ لیکن ہم اہل مدینہ ہیں۔ ہمیں اس سے گھن آتی ہے۔ “