hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 24833

.

ابن أبي شيبة

24833
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۸۳۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِینَۃِ ، فَقَرَّبَ إِلَیْنَا ثَلاَثَۃَ عَشَرَ ضَبًّا ، فَآکِلٌ وَتَارِکٌ ، فَلَقِیتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتہ ، فَأَکْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَہُ حَتَّی قَالَ بَعْضُہُمْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ آکُلُہُ ، وَلاَ أَنْہَی عَنْہُ ، وَلاَ أُحِلُّہُ ، وَلاَ أُحَرِّمُہُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَبِئْسَ مَا قُلْتُمْ ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحِلاًّ وَمُحَرِّمًا ، بَیْنَمَا ہُوَ عِنْدَ مَیْمُونَۃَ، وَعِنْدَہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، وَامْرَأَۃٌ أُخْرَی ، إِذْ قُرِّبَ إِلَیْہِ خِوَانٌ عَلَیْہِ لَحْمٌ ، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَأْکُلَ ، قَالَتْ لَہُ مَیْمُونَۃُ : إِنَّہُ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَکَفَّ یَدَہُ وَقَالَ : إِنَّ ہَذَا اللَّحْمَ لَمْ آکُلْہُ قَطُّ ، وَقَالَ لَہُمْ: کُلُوا، فَأَکَلَ مِنْہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، وَالْمَرْأَۃُ، وَقَالَتْ مَیْمُونَۃُ: لاَ آکُلُ إِلاَّ مِنْ شَیْئٍ یَأْکُلُ مِنْہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(مسلم ۱۵۴۵۔ احمد ۱/۲۹۴)
(٢٤٨٣٤) حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مدینہ میں ایک ولیمہ میں دعوت تھی۔ ہمیں تیرہ عد د گوہ پیش کی گئیں۔ پس کچھ لوگوں نے کھا لیں اور کچھ نے نہ کھائیں۔ پھر میں اگلے دن حضرت ابن عباس سے ملا اور میں نے انھیں یہ بات بتائی۔ بہت سے لوگ حضرت ابن عباس کے گرد تھے ان میں سے کچھ نے کہا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں، میں اس کو حلال کرتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “ اس پر حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے بُری گفتگو کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تو بعثت ہی حلال اور حرام کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت میمونہ کے پاس تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں حضرت فضل بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور ایک دوسری عورت بھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دسترخوان بڑھایا گیا جس پر گوشت تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس کو) کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا۔ ” میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا “۔ اور لوگوں سے کہا۔ ” تم کھاؤ۔ “ چنانچہ حضرت فضل ابن عباس ، حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے (اس کو) کھایا۔ اور حضرت میمونہ نے فرمایا : میں تو اس چیز کو کھاؤں گی جس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تناول فرمائیں گے۔