(۲۵۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ ؛ أَنَّہُ قَالَ لِقَوْمِہِ : قُومُوا حَتَّی أُصَلِّیَ بِکُمْ صَلاَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصَفَّنَا خَلْفَہُ، فَکَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ کَبَّرَ ، ثُمَّ رکع ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَکَبَّرَ ، فَصَنَعَ ذَلِکَ فِی صَلاَتِہِ کُلِّہَا۔
(احمد ۳۴۲۔ طبرانی ۳۴۱۱)
(٢٥٠٥) حضرت ابو مالک اشعرینے ایک مرتبہ اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا ” اٹھو، میں تمہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز سکھاتا ہوں “ لوگوں نے ان کے پیچھے صفیں باندھ لیں، پھر آپ نے تکبیر کہی پھر قراءت کی، پھر تکبیر کہی، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پھر تکبیر کہی۔ انھوں نے پوری نماز اسی طرح ادا فرمائی۔