(۲۵۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَید بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عْن أَبِی مُوسَی ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عَلِیٌّ یَوْمَ الْجَمَلِ صَلاَۃً ، ذَکَّرَنَا بِہَا صَلاَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا أَنْ نَکُونَ نَسِینَاہَا ، وَإِمَّا أَنْ نَکُونَ تَرَکْنَاہَا عَمْدًا ، یُکَبِّرُ فِی کُلِّ رَفْعٍ وَخَفْضٍ ، وَقِیَامٍ وَقُعُودٍ ، وَیُسَلِّمُ عَنْ یَمِینِہِ وَیَسَارِہِ۔
(ابن ماجہ ۹۱۷۔ احمد ۴/۳۹۲)
(٢٥٠٦) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علینے جنگ جمل میں ہمیں نماز پڑھائی اور یہ بھی فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسی نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر یا تو ہم اسے بھول گئے یا ہم نے اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا۔ انھوں نے یوں نماز پڑھائی کہ ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے اور قیام وقعود کے وقت اللہ اکبر کہا۔ اور انھوں نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا۔