(۲۵۵۹۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَئِ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَوْبًا جَدِیدًا ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی ، وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، ثُمَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِیدًا ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی ، وَأُجَمِّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَی الثَّوْبِ الَّذِی أَخْلَقَ ، أَوْ قَالَ : أَلْقَی فَتَصَدَّقَ بِہِ ، کَانَ فِی کَنَفِ اللہِ ، وَفِی حِفْظِ اللہِ ، وَفِی سَتْرِ اللہِ حَیًّا وَمَیِّتًا ، قَالَہَا ثَلاَثًا۔
(ترمذی ۳۵۶۰۔ حاکم ۱۹۳)
(٢٥٥٩٦) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک نیا کپڑا پہنا، تو فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے وہ کپڑا پہنایا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور جس کے ذریعہ میں اپنی زندگی میں جمال حاصل کرتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا : میں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے سُنا : ” جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ کہے : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی ، وَأُجَمِّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، پھر وہ اپنے پرانے، اتارے ہوئے کپڑے کو لے اور اس کو صدقہ کر دے تو یہ شخص اللہ کی رحمت ، حفاظت اور پردہ میں رہے گا ۔ زندگی میں بی اور موت کے بعد بھی “ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ کہی۔