(۲۶۴۹۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ ، أَوْ سَمَّتَ أَحَدَہُمَا وَلَمْ یُشَمِّتِ الآخَرَ ، فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَطَسَ عِنْدَکَ رَجُلاَنِ فَشَمَّتَ أَحَدَہُمَا وَلَمْ تُشَمِّتِ الآخَرَ ، فَقَالَ : إنَّ ہَذَا حَمِدَ اللَّہَ ، وَإِنَّ ہَذَا لَمْ یَحْمَدِ اللَّہَ۔
(بخاری ۶۲۲۱۔ مسلم ۲۲۹۲)
(٢٦٤٩٥) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چھینک آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ایک کو تو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ۔ ان میں سے ایک کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے الحمد للہ کہا تھا اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا۔