(۲۶۴۹۶) حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِیّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : دَخَلْت عَلَی أَبِی مُوسَی وَہُوَ فِی بَیْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ فَعَطَسْت فَلَمْ یُشَمِّتْنِی وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَہَا ؟ فَرَجَعْت إلَی أُمِّی فَأَخْبَرْتُہَا ، فَلَمَّا جَائَہَا ، قَالَتْ : عَطَسَ عِنْدَکَ ابْنِی فَلَمْ تُشَمِّتْہُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّہَا ، قَالَ : إنَّ ابْنَک عَطَسَ وَلَمْ یَحْمَدِ اللَّہَ فَلَمْ أُشَمِّتْہُ ، وَعَطَسَتْ ہذہ وَحَمِدَتِ اللَّہَ فَشَمَّتُّہَا ، وَسَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَحَمِدَ اللَّہَ فَشَمِّتُوہُ ، وَإِذَا لَمْ یَحْمَدِ اللَّہَ فَلاَ تُشَمِّتُوہُ۔ (بخاری ۹۴۱۔ مسلم ۲۲۹۲)
(٢٦٤٩٦) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ بنت فضل کے گھر میں تھے، پس مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور بنت فضل کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ میں اپنی والدہ کے پاس واپس آیا اور میں نے انھیں اس بارے میں بتایا جب وہ آپ کی خدمت میں آئیں تو کہا : بیشک میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس کو تو یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ آپ نے فرمایا : تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ کے ذریعہ جواب دیا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو اور جب وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ مت کہو۔