hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 26561

.

ابن أبي شيبة

26561
Ibn Abi Shaybah
(۲۶۵۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قدِمْنَا الْمَدِینَۃَ وَہِیَ وَبِیئۃٌ فَاشْتَکَی أَبُو بَکْرٍ وَاشْتَکَی بِلاَلٌ ، قَالَتْ : فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ تعنی إذَا أَفَاقَ یَقُولُ : کُلُّ امْرِئٍ مُصْبِحٌ فِی أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ قالَتْ : وَکَانَ بِلاَلٌ إذَا أَفَاقَ یَقُولُ : أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً وہَلْ أَرِدَنَّ یَوْمًا مِیَاہَ مِجَنَّۃٍ بِوَادٍ وَحَوْلِی إذْخِرٌ وَجَلِیلُ وَہَلْ یَبْدُوَنَّ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ
(٢٦٥٦٢) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ آئے اس حال میں کہ مدینہ وباء زدہ جگہ تھی، پس حضرت ابوبکر اور حضرت بلال بیمار ہوگئے ۔ جب حضرت ابوبکر صحت مند ہوئے تو آپ یہ شعر پڑھتے تھے :(ترجمہ) ہر آدمی اپنے گھروالوں میں صبح کرتا ہے اس حال میں کہ موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی قریب ہوتی ہے۔
اور جب حضرت بلال صحت مند ہوئے تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ (ترجمہ) کاش اے میرے شعر : میں رات گزاروں مکہ کی وادی میں اس حال میں کہ میرے اردگرد اذخر اور ثمامہ کی گھاس ہو۔ اور کیا میں کسی دن مجنّہ کے پانی کی جگہ اتروں گا اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل چشمے ظاہر ہوں گے۔