(۲۷۰۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَن مَالِکِ بْنِ التَّیْہَانِ قَالَ : اجْتَمَعَتْ جَمَاعَۃٌ مِنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا أَہْلُ سَافِلَۃٍ وَأَہْلُ عَالِیَۃٍ ، نَجْلِسُ ہَذِہِ الْمَجَالِسَ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : أَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّہَا ، قُلْنَا وَمَا حَقہَا : قَالَ : غُضُّوا أَبْصَارَکُمْ ، وَرُدُّوا السَّلاَمَ ، وَأَرْشِدُوا الأَعْمَی ، وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ۔ (مسند ۶۸۵)
(٢٧٠٨١) حضرت مالک بن تیھان فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جمع ہوئی اور ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم لوگ شہر کے زیریں اور بالائی حصہ کے لوگ ہیں۔ ہم ان مجلسوں میں بیٹھتے ہیں پس آپ اس بارے میں ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ مجلسوں کو ان کا حق ادا کرو۔ ہم نے پوچھا : ان کا حق کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی نظروں کو جھکاؤ ، سلام کا جواب دو ، اور اندھے کو راستہ دکھلاؤ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو۔