(۲۷۰۸۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمٍ قَالَ : حَدَّثَنَی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ : قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : کُنَّا جُلُوسًا بِالأَفْنِیَۃِ ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا لَکُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجتنبوا مجالس الصُّعُدَاتِ ؟ قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا جَلَسْنَا بِغَیْرِ مَا بَأْسٍ نَتَذَاکَرُ وَنَتَحَدَّثُ ، قَالَ : فأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّہَا ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا حَقُّہَا یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ ، وَرَدُّ السَّلاَمِ ، وَحُسْنُ الْکَلاَمِ۔ (احمد ۳۰۔ ابویعلی ۱۴۱۷)
(٢٧٠٨٢) حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کشادہ صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں راستوں میں مجلس لگاتے ہو ؟ تم راستوں کی مجلسوں سے بچو، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم بغیر گناہ کے بیٹھتے ہیں۔ صرف آپس میں گفتگو اور بات چیت کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مجلسوں کو ان کا حق دو ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجلسوں کا حق کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نظر کا جھکانا، سلام کا جواب دینا ، اور بہترین کلام کرنا۔