(۲۷۲۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَن عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ رَجُلُ مِنْ بَنِی سَلُولَ ، أَنَّہُ دَعَاہُ قَوْمُہُ لِیُعَرِّفُوہُ ، وَاخْتَارُوہُ لِذَلِکَ ، فَأَبَی وَامْتَنَعَ ، فَذَہَبَ إلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو فَشَاوَرَہُ وَاسْتَأْمَرَہُ فَقَالَ : لاَ تَعْرِفَنَّ عَلَیْہِمْ فَجَاؤوا بِالْغَدْوَی فَلَمْ یَزَالُوا حَتَّی أَلْزَمُوہَا إیَّاہُ ، فَذَہَبَ إلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَہُ ، أَنَّہُ قَدْ أُکْرِہَ فَقَالَ : أَوَّلُہَا شُفْعَۃٌ وَأَوْسَطُہَا خِیَانَۃٌ وَآخِرُہَا عَذَابُ النَّارِ۔
(٢٧٢٥٢) حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عثمان جو قبیلہ بنو سلول کے آدمی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نے مجھے بلایا تاکہ وہ مجھے نگران مقرر کریں اور اس عہدے کے لیے منتخب کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ آپ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے آپ نے ان سے مشورہ کیا اور ان کی رائے مانگی۔ انھوں نے فرمایا : تم ہرگز ان پر نگران مت بننا، وہ لوگ اگلی صبح پھر آپ کے پاس آگئے اور مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو اس کے لیے مقرر کردیا۔ آپ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور انھیں بتلایا کہ مجھے مجبور کردیا گیا۔ اس پر انھوں نے فرمایا : اس کی ابتدا تو سفارش ہے اور اس کا درمیان خیانت ہے اور اس کی انتہاء جہنم کا عذاب ہے۔