(۲۷۲۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَن غَالِبٍ قَالَ: إنَّا لَجُلُوسٌ إذْ رَجُلٌ دَخَلَ فَقَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی، عَنْ جَدِّی، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ ابْتَدَأَ قَوْمًا بِسَلاَمٍ فَضَلَہُمْ بِعَشْرِ حَسَنَاتٍ ، وَقَالَ: بَعَثَنِی أَبِی إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : ائْتِہِ فَأُقْرِئْہُ السَّلاَمَ ، وَقُلْ لَہُ ہُوَ یَطْلُبُ إلَیْک أَنْ تَجْعَلَ لَہُ الْعِرَافَۃُ مِنْ بَعْد ، قَالَ : الْعِرَافَۃُ حَقٌّ ، الْعِرَافَۃُ حَقٌّ ، وَلاَ بُدَّ مِنْ عُرَفَائَ ، وَلَکِنَّ الْعَرِیفَ بِمَنْزِلَۃٍ قَبِیحَۃٍ۔(ابوداؤد ۵۱۸۹۔ بزار ۸۰۸)
(٢٧٢٥٣) حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی داخل ہوا اور کہا کہ میرے دادا فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں سے سلام میں پہل کرے تو وہ ان سے دس نیکیوں میں بڑھ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور فرمایا : کہ جا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہو۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنے بعد نگران مقرر فرما دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نگرانی و انتظام برحق ہے۔ نگرانی و انتظام برحق ہے۔ نگران بنانا ضروری ہے، لیکن نگران برے مرتبہ میں ہوگا۔