(۲۸۰۳۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَن حُمَیْدٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ؛ أّنَّہُ أَخْبَرَہُ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُودِ، فَأَعْجَبَتْہُ امْرَأَتُہُ فَقَتَلَہُ وَغَلَبَہُ عَلَیْہَا، فَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیزِ، فَکَتَبَ عُمَرُ: أَنِ ادْفَعُوہُ إِلَی وَلِیِّہِ، قَالَ: فَدَفَعْناہُ إِلَی أُمِّہِ ، فَشَدَخَتْ رَأْسَہُ بِصَخْرَۃٍ ، أَوْ بِصَلاَیَۃٍ، لاَ أَدْرِی قَامَتْ عَلَیْہِ بَیِّنَۃٌ، أَوِ اعْتَرَفَ۔
(٢٨٠٣٣) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت میمون بن مہران نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا ایک آدمی یہود کے آدمی کے پاس سے گزرا تو اس یہودی کی بیوی اس کو پسند آگئی اس نے اس کو قتل کر کے اس کی بیوی کو قبضہ میں لے لیا اور پھر اس بارے میں گورنر نے حضرت عمر عبدالعزیز کو خط لکھا تو حضرت عمر نے جواب لکھا : کہ اس مسلمان کو اس کے سرپرست کے سپرد کر دو راوی کہتے ہیں : ہم نے اس کو اس کی ماں کے سپرد کردیا اس کی ماں نے اس کا سر پتھر یا کونے والی سیل سے توڑ دیاراوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ اس کے خلاف بینہ قائم ہوگیا تھا یا اس نے اعتراف کیا تھا۔