(۲۸۰۳۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ ، قَالَ : قتَلَ رَجُلٌ مِنْ فُرْسَانِ أَہْلِ الْکُوفَۃِ عِبَادِیًا مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنْ أَقِیدوا أَخَاہُ مِنْہُ ، فَدَفَعُوا الرَّجُلَ إِلَی أَخِی الْعِبادِیِّ فَقَتَلَہُ ، ثُمَّ جَائَ کِتَابُ عُمَرَ : أَنْ لاَ تَقْتُلُوہُ وَقَدْ قَتَلَہُ۔
(٢٨٠٣٤) حضرت عبدالملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت نزال بن سبرہ نے ارشاد فرمایا : کوفہ کے شہسواروں میں سے ایک آدمی نے مقام حیرہ کے باشندوں میں سے ایک عیسائی کو قتل کردیا تو حضرت عمر نے اس کے بارے میں لکھا کہ اس قاتل کو پکڑ کے اس عیسائی کے بھائی کے حوالے کردو پس لوگوں نے اس آدمی کو عیسائی کے بھائی کے حوالے کردیا پس اس نے اسے قتل کردیا پھر حضرت عمر کا دوبارہ خط آیا : کہ تم اس کو قتل نہ کرنا لیکن اس نے اسے قتل کردیا تھا۔