(۲۸۰۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَیْسٍ الأَسَدِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْحِیرَۃِ ، فَکَتَبَ فِیہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنِ اقْتُلُوہُ بِہِ ، فَقِیلَ لأَخِیہِ حُنَیْنٍ : اقْتُلْہُ ، قَالَ : حَتَّی یَجِیئَ الْغَضَبُ ، قَالَ : فَبَلَغَ عُمَرَ أَنَّہُ مِنْ فُرْسَانِ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنْ لاَ تُقِیدُوہُ بِہِ ، قَالَ : فَجَائَہُ الْکِتَابُ وَقَدْ قُتِلَ۔ (طحاوی ۱۹۶)
(٢٨٠٤١) حضرت عبدالملک بن میسرہ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے ایک آدمی نے مقام حیرہ کے ایک عیسائی باشندے کو قتل کردیا۔ پھر اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا : تم اس کو اس کے قصاص میں قتل کردو پس اس مقتول کے بھائی حنین کو کہا گیا کہ اس کو قتل کردو راوی کہتے ہیں یہاں تک اس کو غصہ آگیا اور اس نے قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ قاتل مسلمانوں کے شہسواروں میں سے ہے حضرت عمر نے پھر خط لکھا کہ تم اسے قصاصاً قتل مت کرو راوی کہتے ہیں : آپ کا خط ان کے پاس آیا اس حال میں کہ اس کو قتل کردیا گیا تھا۔