(۲۸۰۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، قَالَ : قُلْنَا لِعَلِیٍّ : ہَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئٌ سِوَی الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : لاَ ، وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ ، إِلاَّ أَنْ یُعْطِیَ اللَّہُ رَجُلاً فَہْمًا فِی کِتَابِ اللہِ ، وَمَا فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ ، وَفِکَاکُ الأَسِیرِ ، وَلاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ۔ (بخاری ۱۱۱۔ ترمذی ۱۴۱۲)
(٢٨٠٤٢) حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے پاس قرآن مجید کے سوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی حدیث وغیرہ موجود ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو وجود بخشا اور ہر جاندار کو پیدا کیا مگر جو کچھ اللہ نے کسی آدمی کو قرآن مجید میں فہم عطا کی ہے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دیت کے احکام قیدی کو چھڑانا اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔