(۲۸۲۰۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَوْطَأَ فِی زَمَانِہِ رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ رَجُلاً مِنْ بَنِی غِفَارٍ ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ بَنِی غِفَارٍ رَجُلاً مِنْ جُہَیْنَۃَ ، فَادَّعَی أَہْلُہُ أَنَّہُ مَاتَ مِنْ ذَلِکَ ۔ فَأَحْلَفَہُمْ عُمَرُ خَمْسِینَ رَجُلاً مِنْہُمْ مِنَ الْمُدَّعِینَ فَأَبَوْا أَنْ یَحْلِفُوا ، وَأَبَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِمْ أَنْ یَحْلِفُوا ، فَقَضَی عُمَرُ فِیہَا بِشَطْرِ الدِّیَۃِ۔ (عبدالرزاق ۱۸۲۹۷۔ مالک ۳)
(٢٨٢٠٢) حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قبیلہ جھینہ کے ایک آدمی نے قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص کو روند ڈالا یا راوی نے یوں فرمایا : کہ قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کے آدمی کو روند ڈالا تو اس آدمی کے گھر والوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس وجہ سے مرا ہے تو حضرت عمر نے مدعیوں کے پچاس آدمیوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا۔ ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا اور جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا ان لوگوں نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں نصف دیت کا فیصلہ فرمایا۔