(۲۸۲۰۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ؛ أَنَّ أَمَۃً عَضَّتْ إِصْبَعًا لِمَوْلَی لِبَنِی زَیْدٍ ، فَطُمِرَ فِیہَا فَمَاتَ ، فَاعْتَرَفَتِ الْجَارِیَۃُ بِعَضَّتِہَا إِیَّاہُ ، فَقَضَی فِیہَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِأَنْ یُحَلِّفَ بَنُو زَیْدٍ خَمْسِینَ یَمِینًا ، تُرَدَّدُ عَلَیْہِمُ الأَیْمَانُ ، لَمَاتَ مِنْ عَضَّتِہَا ، ثُمَّ الأَمَۃُ لَہُمْ ، وَإِلاَّ فَلاَ حَقَّ لَہُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ یَحْلِفُوا۔
(٢٨٢٠٣) حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے بنو زید کے آزاد کردہ غلام کی انگلی کو کاٹا جس سے وہ ورم آلود ہوگئی پھر اس شخص کی وفات ہوگئی اور باندی نے بھی اس کی انگلی کے کاٹنے کا اعتراف کیا اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بنو زید والے پچاس قسمیں اٹھائیں گے اس طور پر کہ ان پر قسم کو لوٹایا جائے گا وہ شخص ان باندی کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے پھر باندی ان کو مل جائے گی ورنہ ان کو کوئی حق نہیں ملے گا پس ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔