(۲۸۴۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُلَیٍّ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: جَائَ أَعْمَی یَنْشُدُ النَّاسَ فِی زَمَانِ عُمَرَ یَقُولُ:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ لَقِیت مُنْکَرًا ہَلْ یَعْقِلُ الأَعْمَی الصَّحِیحَ الْمُبْصِرَا۔
خَرَّا مَعًا کِلاَہُمَا تَکَسَّرَا ؟
قالَ وَکِیعٌ : کَانُوا یَرَوْنَ أَنَّ رَجُلاً صَحِیحًا کَانَ یَقُودُ أَعْمَی ، فَوَقَعَا فِی بِئْرٍ ، فَوَقَعَ عَلَیْہِ ، فَإِمَّا قَتَلَہُ ، وَإِمَّا جَرَحَہُ ، فَضَمَّنَ الأَعْمَی۔
(٢٨٤٥٧) حضرت موسیٰ بن علی فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت علی نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک اندھا لوگوں کو یہ شعر سنا رہا تھا : ترجمہ :۔
اے لوگو ! مجھے ایک نامعقول بات کا سامنا ہے۔ کیا اندھا بھی صحیح اور دیکھنے والے کو دیت ادا کرے گا ؟ حالانکہ وہ دونوں اکٹھے گرے تھے ان دونوں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ؟ حضرت وکیع فرماتے ہیں لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ایک بینا آدمی نابینا کو لے کر جا رہا تھا کہ وہ دونوں کنویں میں گرگئے تھے اور یہ اندھا اس پر گرگیا تھا یا تو اس نے اسے مار دیا تھا یا اسے زخمی کردیا تھا تو اس اندھے کو ضامن بنایا گیا تھا۔