(۲۸۴۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ یُقَالُ لَہُ : ابْنُ خَیْبَرِیٍّ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً فَقَتَلَہَا ، أَوْ قَتَلَہُمَا ، فَرُفِعَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ ، فَأَشْکَلَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ فِی ذَلِکَ ، فَکَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی : أَنْ سَلْ عَلِیًّا عَنْ ذَلِکَ ، فَسَأَلَ أَبُو مُوسَی عَلِیًّا ؟ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ مَا ہُوَ بِأَرْضِنَا، عَزَمْتُ عَلَیْک لِتُخْبِرَنِی ، فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : أَنَا أَبُو حَسَنٍ ، إِنْ لَمْ یَجِئْ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ ، فَلِیَدْفَعُوہُ بِرُمَّتِہِ۔ (عبدالرزاق ۱۷۹۱۵)
(٢٨٤٥٨) حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : شام کے باشندوں میں سے ایک شخص جس کا نام ابن خیبری تھا اس نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا تو اس نے بیوی کو یا ان دونوں کو قتل کردیا یہ معاملہ حضرت معاویہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ پر اس بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ آپ نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ وہ اس کے بارے میں حضرت علی سے پوچھیں۔ پھر حضرت ابو موسیٰ نے حضرت علی سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : بیشک یہ معاملہ ہماری زمین میں پیش نہیں آیا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور مجھے اس بارے میں بتلاؤ۔ تو حضرت ابو موسیٰ نے آپ کو اس بارے میں بتلادیا۔ پس حضرت علی نے فرمایا : اگر وہ چار گواہ نہ لائے تو تم اس کو مکمل طور پر حوالہ کردو۔