(۲۸۴۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَ رَجُلاَنِ أَخَوَانِ مِنَ الأَنْصَارِ ، یُقَالُ لأَحَدِہِمَا : أَشْعَث ، فَغَزَا فِی جَیْشٍ مِنْ جُیُوشِ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَقَالَتِ امْرَأَۃُ أَخِیہِ لأَخِیہِ : ہَلْ لَکَ فِی امْرَأَۃِ أَخِیک مَعَہَا رَجُلٌ یُحَدِّثُہَا ؟ فَصَعِدَ فَأَشْرَفَ عَلَیْہِ وَہُوَ مَعَہَا عَلَی فِرَاشِہَا ، وَہِیَ تَنْتِفُ لَہُ دَجَاجَۃً ، وَہُوَ یَقُولُ :
وَأَشْعَثُ غَرَّہُ الإِسْلاَمُ مِنِّی
أَبِیتُ عَلَی حَشَایَاہَا وَیُمْسِی
کَأَنَّ مَوَاضِعَ الرَّبَلاَتِ مِنْہَا
خَلَوْتُ بِعُرْسِہِ لَیْلَ التمَامِ
عَلَی دَہْمَائَ لاَحِقَۃِ الْحِزَامِ
فِئَامٌ قَدْ جُمِعنْ إِلَی فِئَامِ
قالَ : فَوَثَبَ إِلَیْہِ الرَّجُلُ فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ حَتَّی قَتَلَہُ ، ثُمَّ أَلْقَاہُ فَأَصْبَحَ قَتِیلاً بِالْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أُنْشِدُ اللَّہَ رَجُلاً کَانَ عِندَہُ مِنْ ہَذَا عِلْمٌ إِلاَّ قَامَ بِہِ ، فَقَامَ الرَّجُلُ فَأَخْبَرَہُ بِالْقِصَّۃِ ، فَقَالَ : سَحِقَ وَبَعُدَ۔
(٢٨٤٦٠) حضرت ابو عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : دو انصاری آدمی آپس میں بھائی تھے ان میں سے ایک کا نام اشعث تھا وہ مسلمانوں کے لشکروں میں سے کسی لشکر میں جہاد کرنے گیا۔ تو اس کے بھائی کی بیوی اس کے بھائی کو کہنے لگی : تمہارے بھائی کی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی ہے کیا تم اس کا کچھ کرسکتے ہو ؟ پس پیچھے رہنے والا آدمی چھت پر چڑھا اور اس نے اپنے بھائی کے گھر میں جھانکا تو اس نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ بسترپر دیکھا اور وہ عورت اس کے لیے مرغی کی کھال اتار رہی تھی اور وہ شخص یہ شعر پڑھ رہا تھا۔ ترجمہ :” اشعث کو اسلام نے میرے بارے میں دھوکا دیا۔ میں نے اس کی دلہن کے ساتھ رات گزاری۔ میں اس کی بیوی کے ساتھ لپٹ کر رات گزار رہا تھا جبکہ وہ موت کی مصیبت میں شام کررہا تھا۔ اس کی بیوی کے جسم کا گوشت ایسے ہے جیسے پالکی کے گدے ایک دوسرے کے اوپر ڈالے گئے ہوں۔ “
یہ سن کر وہ بھائی اس پر کود پڑا اور اس نے تلوار سے وار کر کے قتل کردیا پھر اس کو پھینک دیا اس مقتول نے مدینہ میں صبح کی تو حضرت عمر نے فرمایا : میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس آدمی کو جس کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو مگر یہ کہ وہ کھڑا ہوجائے وہ شخص کھڑا اور اس نے واقعہ کی آپ کو خبر دی اس پر آپ نے فرمایا : یہ شخص برباد اور ہلاک ہوگیا۔