(۲۸۴۶۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : الرَّجُلُ یَجِدُ عَلَی امْرَأَتِہِ رَجُلاً فَیَقْتُلُہُ ، أَیُہْدَرُ دَمُہُ ؟ قَالَ : مَا مِنْ أَمْرٍ إِلاَّ بِالْبَیِّنَۃِ ، قُلْتُ : إِنْ شُہِدَ عَلَیْہِ أَنَّہُ زَانِی فِی أَہْلِی ، قَالَ : وَإِنْ شُہِدَ ، لاَ أَمْرَ إِلاَّ بِالْبَیِّنَۃِ ، لاَ أَمْرَ إِلاَّ فِی بَیِّنَۃٍ۔
(٢٨٤٦١) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ سے دریافت کیا اس آدمی کے متعلق جو اپنی بیوی کے ہمراہ کسی آدمی کو پائے اور اسے قتل کردے تو کیا اس کا خون رائیگاں جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : کوئی معاملہ نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ میں نے عرض کی اگر اس شخص کے خلاف گواہی دے دی گئی کہ اس نے میرے گھر میں زنا کیا آپ نے فرمایا : اگرچہ گواہی دے کوئی حکم نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ کوئی حکم نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ۔