(۲۸۶۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ بَکْرِ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلاً عَمْدًا ، فَفَرَّ فَلَمْ یُقْدَرْ عَلَیْہِ حَتَّی مَاتَ ، وَتَرَکَ مَالاً ، فَدِیَتُہُ فِی مَالِہِ دِیَۃُ الْمَقْتُولِ ، قِیلَ لَہُ : سُجِنَ الْقَاتِلُ حَتَّی مَاتَ ؟ قَالَ : قَدْ قَتَلُوہُ ، حَبَسُوہُ حَتَّی مَاتَ فِی السِّجْنِ۔
(٢٨٦٤٤) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ سے پوچھا : ایک آدمی نے کسی کو قصداً قتل کردیا پھر وہ بھاگ گیا اور اس پر قابو حاصل نہ ہوا یہاں تک کہ وہ مرگیا درآنحالیکہ اس نے مال چھوڑا۔ آپ نے فرمایا : مقتول کی دیت اس کے مال میں لازم ہوگی۔ آپ سے پوچھا گیا ؟ اس قاتل کو قید کردیا جائے گا یہاں تک کہ وہ مرجائے ؟ آپ نے فرمایا : تحقیق ان لوگوں نے ہی اسے قتل کردیا ! انھوں نے اس کو قید کردیا یہاں تک کہ جیل میں اس کی موت واقع ہوگئی۔