(۲۸۶۴۵) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَن صَاعِدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سُئِلَ عَن قَتِیلٍ وُجِدَ فِی ثَلاَثَۃِ أَحْیَائٍ ؛ رَأْسُہُ فِی حَیٍّ ، وَرِجْلاَہُ فِی حَیٍّ ، وَوَسَطُہُ فِی حَیٍّ ، قَالَ الشَّعْبِیُّ : یُصَلَّی عَلَی الْوَسَطِ ، وَعَلَی أَہْلِ الْوَسَطِ الدِّیَۃُ ، وَقَسَامَۃٌ : مَا قَتَلْنَا ، وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً۔
(٢٨٦٤٥) حضرت صاعد بن مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ایسے مقتول کے بارے میں سوال کیا گیا جو تین محلوں میں پڑا ہوا پایا گیا بایں طور پر کہ اس کا سر ایک محلہ میں ملا، اور اس کی ٹانگیں کسی اور محلہ میں اور اس کا درمیانی حصہ کسی اور محلہ میں تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : اس کے درمیانی حصہ پر نماز جنازہ پڑھا جائے گا اور جس جگہ سے درمیانی حصہ ملا تھا ان لوگوں پر دیت اور قسامت ہوگی کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل معلوم ہے۔