(۲۹۱۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ حُجِّیَّۃَ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقْطَعُ اللُّصُوصَ وَیَحْسِمُہُمْ وَیَحْبِسُہُمْ وَیُدَاوِیہِمْ ، فَإِذَا بَرَؤُوا ، قَالَ : أرْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ ، فَیَرْفَعُونَہَا کَأَنَّہَا أُیُورُ الْحُمُرِ ، ثُمَّ یَقُولُ : مَنْ قَطَعَکُمْ ؟ فَیَقُولُونَ : عَلِیٌّ ، فَیَقُولُ : وَلِمَ ؟ فَیَقُولُونَ : إِنَّا سَرَقْنَا ، فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، اذْہَبُوا۔
(٢٩١٩٩) حضرت حجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی چوروں کے ہاتھ کاٹتے اور ان کو داغ دیتے پھر ان کو قید کردیتے اور ان کا دو ادوار کرتے۔ پس جب زخم تندرست ہوجاتا فرماتے، اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ سو وہ ان کو اٹھاتے گویا کہ وہ سرخ عضو تناسل ہوں پھر آپ فرماتے : تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے ؟ وہ جواب دیتے : علی نے۔ آپ فرماتے : کیوں کاٹے ؟ وہ جواب دیتے۔ ہم نے چوری کی تھی۔ پس آپ فرماتے اے اللہ : تو گواہ رہ اے اللہ ! تو گواہ رہ، تم چلے جاؤ۔