(۲۹۲۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِرَجُلٍ قد سَرَقَ طَیْرًا ، فَاسْتَفْتَی فِی ذَلِکَ السَّائِبَ بْنَ یَزِیدَ ، فَقَالَ : مَا رَأَیْتُ أَحَدًا قَطَعَ فِی الطَّیْرِ ، وَمَا عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ قَطْعٌ ، فَتَرَکَہُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَلَمْ یَقْطَعْہُ۔
(٢٩٢٠٠) حضرت یزید ابن خصیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے پرندہ چوری کیا تھا تو آپ نے اس بارے میں حضرت سائب بن یزید سے سے فتویٰ پوچھا انھوں نے فرمایا : میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹا ہو۔ اور اس بارے میں چور پر کاٹنے کی سزا جار ی نہیں ہوگی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔