(۲۹۲۵۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّ غُلاَمًا اخْتَلَسَ طَوْقًا ، فَرُفِعَ إِلَی عَدِیِّ بْنِ أَرْطَاۃَ ، فَسَأَلَ الْحَسَنَ عَن ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لاَ قَطْعَ عَلَیْہِ ، وَسَأَلَ عَن ذَلِکَ إِیَاسَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ ؟ فَأَمَرَہُ بِقَطْعِہِ ، فَلَمَّا اخْتَلَفَا ، کَتَبَ فِی ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : إِنَّ الْعَرَبَ کَانَتْ تَدْعُوہَا عَدْوَۃَ الظَّہِیرَۃِ ، لاَ قَطْعَ عَلَیْہِ ، وَلَکِنْ أَوْجِعْ ظَہْرَہُ ، وَأَطِلْ حَبْسَہُ۔
(٢٩٢٥٨) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نے طوق جھپٹ لیا یہ معاملہ حضرت عدی بن ارطاۃ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس بارے میں حضرت حسن بصری سے پوچھا ؟ انھوں نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔ اور آپ نے حضرت ایاس بن معاویہ سے پوچھا ؟ انھوں نے اختلاف کا ا تو آپ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا حضرت عمر نے آپ کو جواب لکھا : بیشک اہل عرب اس کو دن کی چوری پکارتے تھے اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی لیکن تم اس کی کمر کو تکلیف پہنچاؤ اور اس کو لمبی قید میں رکھو۔