(۲۹۲۵۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ؛ أَنَّ عَدِیًّا رُفِعَ إِلَیْہِ رَجُلٌ اخْتَلَسَ خُلْسَۃً ، فَقَالَ إِیَاسٌ : عَلَیْہِ الْقَطْعُ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : لاَ قَطْعَ عَلَیْہِ ، فَکَتَبَ عَدِیٌّ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ قَطْعٌ ، قَالَ : وَکَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّیہَا عَدْوَۃَ الظَّہِیرَۃِ۔
(٢٩٢٥٩) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عدی کے پاس ایک معاملہ پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے کوئی چیز جھپٹ لی تھی۔ حضرت ایاس نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری ہوگی اور حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزاجاری نہیں ہوگی تو حضرت عدی نے اس بارے میں حضرت عمربن عبدالعزیز کو خط لکھا تو آپ نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے سزا جاری نہیں ہوگی اس لیے کہ اہل عرب اسے دن کی چوری پکارتے تھے۔