(۲۹۳۶۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا بَشِیرُ بْنِ الْمُہَاجِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ الأَسْلَمِیَّ أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی وَزَنَیْتُ ، وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی ، فَرَدَّہُ ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ أَتَاہُ أَیْضًا ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ ، فَرَدَّہُ الثَّانِیَۃَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ : أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِہِ بَأْسًا ؟ تُنْکِرُونَ مِنْہُ شَیْئًا ؟ فَقَالُوا : لاَ نَعْلَمُہُ إِلاَّ وَفِی الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِینَا فِیمَا نُرَی ، قَالَ : فَأَتَاہُ الثَّالِثَۃَ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ أَیْضًا ، فَسَأَلَ عَنْہُ ؟ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّہُ لاَ بَأْسَ بِہِ ، وَلاَ بِعَقْلِہِ ، فَلَمَّا کَانَ الرَّابِعَۃُ ، حَفَرَ لَہُ حُفْرَۃً ، ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ۔ (مسلم ۱۳۲۳۔ ابوداؤد ۴۴۳۲)
(٢٩٣٦٧) حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کی : بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں نے زنا کیا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے پاک کردیں، سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو واپس کردیا جب اگلا دن آیا تو وہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے اور عرض کی : یا سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دوسری مرتبہ بھی واپس لوٹا دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قوم کی طرف قاصد بھیجا اور فرمایا : کیا تم اس کی عقل میں کوئی حرج سمجھتے ہو ؟ کیا تم اس میں کوئی غلط چیز دیکھتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے مگر یہ کہ اس کی عقل ہمارے نیک لوگوں کی طرح ہے جیسا کہ ہمیں دکھائی دیا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ تیسری بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی قوم کی طرف پھر قاصد بھیجا اور اس کے بارے میں سوال کیا ؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ اس میں اور اس کی عقل میں کوئی حرج والی بات نہیں، پس جب وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے انھیں سنگسار کردیا گیا۔