(۲۹۳۶۸) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ دَاوُد ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَسَأَلَ عَنْہُ ؟ ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ ، فَرَمَیْنَاہُ بِالْخَزَفِ ، وَالْجَنْدَلِ ، وَالْعِظَامِ ، وَمَا حَفَرْنَا لَہُ ، وَلاَ أَوْثَقْنَاہُ ، فَسَبَقْنَا إِلَی الْحَرَّۃِ وَاتَّبَعَناہُ ، فَقَامَ إِلَیْنَا ، فَرَمَیْنَاہُ حَتَّی سَکَتَ ، فَمَا اسْتَغْفَرَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ سَبَّہُ۔ (مسلم ۱۳۲۱۔ ابوداؤد ۴۴۲۹)
(٢٩٣٦٨) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ماعز بن مالک آئے اور انھوں نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق سوال کیا ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے انھیں سنگسار کردیا گیا، سو ہم نے انھیں ٹھیکری، چھوٹے چھوٹے پتھر اور ہڈیاں ماریں اور نہ ہم نے ان کے لیے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہم نے ان کو باندھا پس وہ ہم سے آگے حرہ مقام کی طرف دورڑے اور ہم نے ان کاپیچھا کیا سوو ہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے پھر ہم نے انھیں پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ساکت ہوگئے اور نہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے استغفار کیا اور نہ ہی ان کو برا بھلا کہا۔