hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 29405

.

ابن أبي شيبة

29405
Ibn Abi Shaybah
(۲۹۴۰۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ ، وَہِیَ حَامِلٌ ، فَأَمَرَ بِہَا أَنْ یُحْسَنَ إِلَیْہَا حَتَّی تَضَعَ ، فَلَمَّا أَنْ وَضَعَتْ ، جِیئَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِہَا ، فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا ، ثُمَّ رَجَمَہَا وَصَلَّی عَلَیْہَا ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، أَتُصَلِّی عَلَیْہَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ ، وَہَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا۔ (مسلم ۱۳۲۴۔ ابوداؤد ۴۴۳۷)
(٢٩٤٠٦) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ قبیلہ جھینہ کی ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی بیشک مجھ پر حد لازم ہوگئی سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مجھ پر قائم فرمادیں اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پس جب اس نے حمل وضع کردیا تو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس پر کپڑے ڈال دیے گئے پھر اس کو سنگسار کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی حضرت عمر نے فرمایا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے ؟ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : البتہ تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ مدینہ والوں میں سے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو وہ ان کو گھیر لے کیا تم کسی کو افضل پاؤ گے اس سے جس نے اپنی جان دیدی ہو۔