hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 29404

.

ابن أبي شيبة

29404
Ibn Abi Shaybah
(۲۹۴۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ مُہَاجِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَائَتِ الْغَامِدِیَّۃُ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ ، وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی ، وَإِنَّہُ رَدَّہَا ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ ، قَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، لِمَ تَرُدَّنِی ؟ فَلَعَلَّک أَنْ تُرَدِّدَنِی کَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ ، فَوَاللَّہِ إِنِّی لِحُبْلَی ، قَالَ : إِمَّا لاَ ، فَاذْہَبِی حَتَّی تَلِدِی ، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْہُ بِالصَّبِیِّ فِی خِرْقَۃٍ ، قَالَتْ : ہَذَا قَدْ وَلَدْتُہُ ، قَالَ : اذْہَبِی فَأَرْضِعِیہِ ، حَتَّی تَفْطِمِیہِ ، فَلَمَّا فَطَمَتْہُ أَتَتْہُ بِالصَّبِیِّ ، وَفِی یَدِہِ کِسْرَۃُ خُبْزٍ ، فَقَالَتْ : ہَذَا یَا نَبِیَّ اللہِ قَدْ فَطَمْتُہُ ، وَقَدْ أَکَلَ الطَّعَامَ ، فَدُفَعَ الصَّبِیَّ إِلَی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَحُفِرَ لَہَا إِلَی صَدْرِہَا ، وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوا ، فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بِحَجَرٍ فَرَمَی رَأْسَہَا ، فَانْتَضَخَ الدَّمُ عَلَی وَجْہِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ ، فَسَمِعَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبَّہُ إِیَّاہَا ، فَقَالَ : مَہْلاً یَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِیدِ ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَصُلَّیَ عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ۔
(٢٩٤٠٥) حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت آئی اور کہنے لگی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے زنا کیا ہے اور بیشک میں چاہتی ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے پاک کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو واپس لوٹا دیا پس جب اگلا دن ہوا اس نے کہا ! یا نبی اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کیوں لوٹا دیا جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹا دیا تھا ! اللہ کی قسم ! بیشک میں حاملہ ہوں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بالکل نہیں، تم جاؤ یہاں تک کہ تم بچہ پیدا کردو، پس جب اس نے بچہ جنا تو وہ بچہ کو پھٹے پرانے کپڑے میں لے کر آئی اور کہنے لگی : میں نے اس کو جن دیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جاؤ اس کو دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو پس جب اس عورت نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو وہ اس بچہ کو لے کر آئی اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس عورت نے کہا ! اے اللہ کے نبی ! تحقیق میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور تحقیق اس نے کھانا کھایا ہے سو اس بچہ کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالہ کردیا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس کے سینہ تک گھڑا کھودا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اسے پتھر مارے حضرت خالد بن ولید ایک پتھر لائے اور اس کے سر میں مارا تو اس کے خون کی چھینٹیں حضرت خالد بن ولید کے چہرے پر پڑیں تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس عورت کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہرواے خالد بن ولید ! پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی مغفرت کردی جاتی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اس کو دفن کردیا گیا۔