(۲۹۴۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ مِنْ شَأْنِ أَبِی بَکْرَۃَ وَالْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ الَّذِی کَانَ ، قَالَ أَبُو بَکْرَۃَ : اجْتَنِبْ ، أَوْ تَنَحَّ عَن صَلاَتِنَا ، فَإِنَّا لاَ نُصَلِّی خَلْفَک ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ فِی شَأْنِہِ ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی الْمُغِیرَۃِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ قَدْ رَقِیَ إِلَیَّ مِنْ حَدِیثِکَ حَدِیثٌ ، فَإِنْ یَکُنْ مَصْدُوقًا عَلَیْک ، فَلأَنْ تَکُونَ مِتَّ قَبْلَ الْیَوْمِ خَیْرٌ لَکَ ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِ وَإِلَی الشُّہُودِ ، أَنْ یُقْبِلُوا إِلَیْہِ۔
فَلَمَّا انْتَہَوْا إِلَیْہِ ، دَعَا الشُّہُودَ فَشَہِدُوا ، فَشَہِدَ أَبُو بَکْرَۃَ ، وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ ، وَأَبُو عَبْدِ اللہِ نَافِعٌ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ حِینَ شَہِدَ ہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃُ : أَوْدَی الْمُغِیرَۃِ أَرْبَعَۃٌ ، وَشَقَّ عَلَی عُمَرَ شَأْنُہُ جِدًّا ، فَلَمَّا قَامَ زِیَادٌ ، قَالَ: لَنْ یَشْہَدْ إِنْ شَائَ اللَّہُ إِلاَّ بِحَقٍّ ، ثُمَّ شَہِدَ ، فَقَالَ : أَمَّا الزِّنَی فَلاَ أَشْہَدُ بِہِ ، وَلَکِنِّی قَدْ رَأَیْتُ أَمْرًا قَبِیحًا، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، حُدُّوہُمْ ، فَجَلَدَہُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ جَلْدِ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَامَ أَبُو بَکْرَۃَ ، فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنَّہُ زَانٍ ، فَذَہَب عُمَرُ یُعِیدَ عَلَیْہِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : إِنْ جَلَدْتَہُ فَارْجُمْ صَاحِبَک ، فَتَرَکَہُ ، فَلَمْ یُجْلَدْ فِی قَذفٍ مَرَّتَیْنِ بَعْدُ۔
(٢٩٤٢١) حضرت قسامہ بن زھیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا معاملہ ہوا تھا تو وہ اس طرح تھا حضرت ابو بکرہ نے کہا : دور رہو ہماری نمازوں سے بیشک ہم تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے سو حضرت مغیرہ نے ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا : حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو جواب لکھا کہ : حمدو صلوٰۃ کے بعد بیشک اس نے مجھے تمہاری باتوں میں سے ایک بات پہنچائی ہے پس اگر وہ تمہارے خلاف سچی ہے تو ضرور تمہارا آج کے دن سے پہلے مرجانا تمہارے لیے بہتر تھا۔ اور پھر آپ نے ان کو اور گواہوں کو خط لکھا کہ وہ سب میرے پاس آئیں۔
پس جب وہ سب لوگ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے گواہوں کو بلایا سو انھوں نے گواہی دی پس حضرت ابو بکرہ ، حضرت شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع نے گواہی دی راوی کہتے ہیں : جب یہ تینوں گواہی دے چکے تو حضرت عمر نے فرمایا : مغیرہلاک ہوگیا چوتھے آدمی آئے ! اور حضرت عمر پر ان کی یہ حالت بہت بھاری گزری۔ سو جب زیاد کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا : یہ ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی پھر اس نے گواہی دی اور کہا : جہاں تک زنا کا تعلق ہے تو میں اس کی گواہی نہیں دیتا لیکن تحقیق میں نے فحش معاملہ دیکھا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا : اللہ اکبر ان تینوں کو کوڑے مارو سو آپ نے ان کو کوڑے مارے پس جب حضرت ابو بکرہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک وہ زانی ہے ! سو حضرت عمر ان پر دوبارہ حد جاری کرنے کے لیے جانے لگے اس پر حضرت علی نے فرمایا : اگر تم اس کو کوڑے مارتے ہو تو اپنے ساتھی کو بھی سنگسار کرو ! پس حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا اور ایک تہمت میں دو مرتبہ اس کے بعد کوڑے نہیں مارے گئے۔