(۲۹۴۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ أَبِی خَلْدَۃَ ، قَالَ : لَقِیَنِی سَعِیدُ بْنُ أَرْطَبَان ، عَمُّ ابْنِ عَوْنٍ ، فَقَالَ : أَتُرِیدُ أَنْ تَأْتِیَ أَبَا الْعَالِیَۃِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَقُلْ لَہُ : شَہِدَ الْحَسَنُ ، وَابْنُ سِیرِینَ ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَلَی امْرَأَۃٍ وَرَجُلٍ أَنَّہُمَا زَنَیَا ، وَأَقَرَّتِ الْمَرْأَۃُ ، وَأَنْکَرَ الرَّجُلُ ؟ فَسَأَلْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ عَن ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لَقِیْتَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الأَہْوَائِ ؛ یُجْلَدُ الْحَسَنُ ثَمَانِینَ ، وَمُحَمَّدٌ ثَمَانِینَ ، وَثَابِتٌ ثَمَانِینَ ، وَتُرْجَمُ الْمَرْأَۃُ بِاعْتِرَافِہَا ، وَیَذْہَبُ الرَّجُلُ لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔
(٢٩٤٢٢) حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ارطبان جو حضرت ابن عون کے چچا ہیں ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے کیا تمہارا حضرت ابو العالیہ کے پاس جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں انھوں نے کہا ! تم ان سے کہنا حضرت حسن بصری ، حضرت ابن سیرین اور حضرت ثابت بنانی ان سب حضرات نے ایک آدمی اور ایک عورت کے خلاف گواہی دی ہے کہ ان دونوں نے زنا کیا ہے اور اس عورت نے اقرار کرلیا اور آدمی نے انکار کردیا تو کیا حکم ہے ؟ راوی کہتے ہیں، پس میں نے حضرت ابو العالیہ سے اس کے متعلق سوال کیاٖ انھوں نے فرمایا : تمہاری نفس پرستوں میں سے کسی آدمی سے ملاقات ہوئی ہے حسن بصری کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور محمد کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور ثابت بنانی کو اسی کوڑے اور اس عورت کو اعتراف کرنے کی وجہ سے سنگسار کردیا جائے گا اور آدمی چلا جائے گا اور اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہوگی۔