(۲۹۶۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَن سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ شُرَیْحٍ إِذْ أَتَاہُ قَوْمٌ یَخْتَصِمُونَ إِلَیْہِ فِی عُمْرَی جُعِلَتْ لِرَجُلِ حَیَاتَہُ ، فَقَالَ لَہُ : ہِیَ لَہُ حَیَاتَہُ وَمَوْتَہُ ، فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ الَّذِی قَضَی عَلَیْہِ یُنَاشِدُہُ فَقَالَ شُرَیْحٌ : لَقَدْ لامَنِی ہَذَا فِی أَمْرٍ قَضَی بِہِ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٢٩٦٥٦) حضرت سلمہ بن کھیل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ قاضی شریح کی مجلس میں تھے کہ چند لوگ ان کے پاس ایک ایسے گھر کا جھگڑا لے کر آئے جو کسی آدمی کو پوری زندگی کے لیے دے دیا گیا ہو۔ تو قاضی شریح نے ان کو کہا کہ یہ اس آدمی کو زندگی میں ملے گا اور موت کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گا۔ تو جس کے خلاف فیصلہ دیا وہ آپ کی طرف متوجہ ہوا اور قسمیں دینا شروع کردیں۔ قاضی شریح نے فرمایا : یہ شخص مجھے ایک ایسے معاملہ میں ملامت کررہا ہے جس کا فیصلہ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔