(۲۹۶۶۰) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، عَن زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشَبْلٍ ، وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالُوا : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَنْشُدُک اللَّہَ ، إِلاَّ قَضَیْت بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللہِ ، فَقَالَ خَصْمُہُ ، وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ : أَجَلْ یَا رَسُولَ اللہِ اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللہِ وَائْذَنْ لِی حَتَّی أَقُولَ ، قَالَ : قُلْ ، قَالَ : إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیفًا عَلَی ہَذَا ، وَالْعَسِیفُ : الأَجِیرُ ، وَإِنَّہُ زَنَی بِامْرَأَتِہِ فَافْتَدَیْت مِنْہُ بِمِئَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ ، فَسَأَلْت رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ فَأُخْبِرْت أَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِئَۃ وَتَغْرِیبَ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللہِ : الْمِئَۃُ شَاۃٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْک ، وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِئَۃ وَتَغْرِیبُ عَامِ ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ عَلَی امْرَأَۃِ ہَذَا فَإِنَ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْہَا۔
(٢٩٦٦٠) حضرت زید بن خالد اور شبل اور ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ تو اس کا مخالف جو کہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا کہنے لگا ! جی ہاں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں کچھ کہوں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو ! اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا تو میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور خادم دیا پھر علماء سے اس کے متعلق پوچھا ؟ تو انھوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہوگی اور اس شخص کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں ضرور بالضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ! سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس دیے جائیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزاملے گی۔ اور اے انیس ! اس عورت کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو۔