(۲۹۶۹۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِی الْمُعْتَمِرِ عن عمر بْنِ خَلْدَۃَ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : جِئنا أَبا ہُرَیْرَۃَ فِی صَاحِبٍ لَنَا أُصِیبَ بِہَذَا الدَّیْنِ ، یَعْنِی أَفْلَسَ ، فَقَالَ : قَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی رَجُلٍ مَاتَ ، أَوْ أَفْلَسَ أَنَّ صَاحِبَ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِہِ إِذَا وَجَدَہُ إِلاَّ أَنْ یَتْرُکَ صَاحِبُہُ وَفَائً۔
(ابوداؤد ۳۵۱۸۔ ابن ماجہ ۲۳۶۰)
(٢٩٦٩٤) حضرت عمر بن خلدۃ الانصاری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے ایک دوست کے معاملہ میں جو کہ قرض میں پھنس گیا تھا یعنی وہ مفلس اور دیوالیہ ہوگیا تھا تو ابوہریرہ نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے شخص کے بارے میں جو مرگیا ہو یا مفلس ہوگیا ہو یوں فیصلہ فرمایا کہ صاحب مال جب اپنا مال بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے البتہ اگر مالک اپنا حق پورا پورا چھوڑ دے تو ٹھیک ہے۔