(۲۹۶۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادُوا أَنْ یَرْفَعُوا الْحَجَرَ الأَسْوَدَ ، اخْتَصَمُوا فِیہِ فَقَالُوا : یَحْکُمُ بَیْنَنَا أَوَّلُ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ ہَذِہِ السِّکَّۃِ ، قَالَ : فَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَنْ خَرَجَ علیہم ، فَقَضَی بَیْنَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوہُ فِی مِرْطٍ ، ثُمَّ یَرْفَعَہُ جَمِیعُ الْقَبَائِلِ کُلِّہَا۔ (حاکم ۴۵۸)
(٢٩٦٩٣) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب قریش مکہ نے حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کا ارادہ کیا تو ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ تو انھوں نے کہا کہ ہمارے درمیان وہ شخص فیصلہ کرے گا جو سب سے پہلے اس گلی سے نکلے گا، حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے شخص تھے جو ان کے پاس تشریف لائے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان یوں فیصلہ فرمایا کہ سب لوگ مل کر حجرِ اسود کو ایک چادر میں رکھیں، پھر تمام قبائل والے اکٹھے اس چادر کو اٹھائیں۔