(۲۹۶۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَمَّنْ حَدَّثَہُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مَوْلًی لِبَنِی نَوْفَلٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِی مَمْلُوکَیْنِ فَطَلَّقْتُہَا ثِنْتَیْنِ ، ثُمَّ أُعْتِقْنَا بَعْدُ ، فَأَرَدْت مُرَاجَعَتَہَا ، فَانْطَلَقْت إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ ، عَن مُرَاجَعَتِہَا فَقَالَ : إِنْ رَاجَعْتہَا فَہِیَ عِنْدَکَ عَلَی وَاحِدَۃٍ ، وَمَضَتِ اثْنَتَانِ ، قَضَی بِذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٢٩٦٩٩) حضرت ابو الحسن جو کہ بنو نوفل کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ میں اور میری بیوی ہم دونوں غلام تھے پس میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، پھر طلاق دینے کے بعد ہم دونوں کو آزاد کردیا گیا، تو میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا ارادہ کیا اور مں ل رجوع سے متعلق فتویٰ لینے حضرت ابن عباس کے پاس گیا، تو انھوں نے فرمایا : اگر تم اس سے رجوع کرتے ہو تو تمہارے پاس ایک طلاق کا حق ہوگا اور دو طلاقوں کا حق ختم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فیصلہ فرمایا ہے۔