(۲۹۷۰۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ رضی اللہ ، عَنہ وَہُوَ بِالْمَوْسِمِ فنادیت مِنْ وَرَائِ الْفُسْطَاطِ : أَلا إِنِّی فُلانُ بْنُ فُلانٍ الْجَرْمِیُّ ، وَإِنَّ ابْنَ أُخْتٍ لَنَا عَانَ فِی بَنِی فُلانٍ وَقَدْ عَرَضْنَا عَلَیْہِ قَضِیَّۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فأبی ؟ قَالَ : فرفع عمر جانب الفسطاط ، فقال : تعرف صاحبک ؟ فقَالَ : نَعَمْ ، فقال : ہو ذاک ؛ انطلقا بہ حتی ینفذ لک قضیۃ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْقَضِیَّۃَ کَانَتْ أَرْبَعًا مِنَ الإِبِلِ۔ (ابویعلی ۱۶۴)
(٢٩٧٠٠) حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ میں حج کے زمانے میں حضرت عمر کے پاس آیا، پس میں نے خیمہ کے پیچھے سے انھیں آواز دی، خبردار ! میں فلاں بن فلاں قبیلہ جرمی کا باشندہ ہوں، اور بیشک ہمارا بھانجھا فلاں قبیلے والوں کی قید میں ہے اور ہم نے ان کے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ پیش کیا ہے پس انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا ہے ؟ کلیب کہتے ہیں : حضرت عمر نے خیمہ کی ایک جانب کو اٹھایا پھر فرمانے لگے : تو اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ؟ تو کلیب نے کہا : جی ہاں ! وہ سامنے ہے، پھر عمر نے فرمایا : تم دونوں اس کے پاس جاؤ یہاں تک کہ تیرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نافذ کردیا جائے گا کلیب کہتے ہیں : ہم کہہ رہے تھے کہ فیصلہ چار اونٹوں کا تھا۔