(۲۹۷۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَن حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ : حُفِرَت زُبْیَۃٌ بِالْیَمَنِ لِلأَسَدِ ، فَوَقَعَ فِیہَا الأَسَدُ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ یَتَدَافَعُونَ عَلَی رَأْسِ الْبِئْرِ ، فَوَقَعَ فِیہَا رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِرَجُلٍ ، ثُمَّ تَعَلَّقَ الآخَرُ بِآخَرَ ، فَہَوَی فِیہَا أَرْبَعَۃٌ فَہَلَکُوا جَمِیعًا ، فَلَمْ یَدْرِ النَّاسُ کَیْفَ یَصْنَعُونَ ، فَجَائَ عَلِیٌّ رحمہ اللہ فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ قَضَیْت بَیْنَکُمْ بِقَضَائٍ یَکُونُ حَاجِزًا بَیْنَکُمْ حَتَّی تَأْتُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَإِنِّی أَجْعَلُ الدِّیَۃَ عَلَی مَنْ حَضَرَ رَأْسَ الْبِئْرِ ، فَجَعَلَ لِلأَوَّلِ الَّذِی ہُوَ فِی الْبِئْرِ رُبْعَ الدِّیَۃِ ، وَلِلثَّانِی ثُلُثَ الدِّیَۃِ ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفَ الدِّیَۃِ ، وَلِلرَّابِعِ الدِّیَۃَ کَامِلَۃً ، قَالَ : فَتَرَاضَوْا عَلَی ذَلِکَ حَتَّی أَتَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوہُ بِقَضَائِ عَلِیٍّ فَأَجَازَ الْقَضَائَ۔
(٢٩٧٠٦) حضرت حنش بن المعتمر فرماتے ہیں کہ یمن میں شیر کو قید کرنے کے لیے ایک گڑھا کھودا گیا، تو شیر اس میں گرگیا، پھر لوگوں نے کنویں کے سر پر ایک دوسرے کو دھکا دینا شروع کردیا ۔ پس کنویں میں ایک آدمی گرنے لگا تو اس نے دوسرے آدمی کو پکڑ لیا پھر دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا اس طرح چار آدمی کنویں میں گرگئے اور سب ہلاک ہوگئے، پس لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ اب کیا کریں ؟ تو حضرت علی تشریف لائے اور فرمانے لگے اگر تم چاہو تو میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہوں جو تمہارے درمیان رکاوٹ ہوگا یہاں تک کہ تم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ، اور کہا کہ دیت ان لوگوں پر ڈالتا ہوں جو کنویں کے منہ کے ارد گرد تھے، پس پہلا شخص جو کنویں میں گرا تھا اسے دیت کا چوتھائی حصہ ملے گا اور دوسرے کو دیت کا تیسرا حصہ ملے گا اور تیسرے کو دیت کا آدھا حصّہ ملے گا اور چوتھے شخص کو کامل دیت ملے گی، حضرت حنش بن المعتمر فرماتے ہیں کہ سب لوگ اس فیصلہ پر رضا مند ہوگئے اور حضرت علی کے فیصلہ کے متعلق بتلایا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فیصلہ کو نافذ فرما دیا۔